ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / دہلی میں 2012-15کے درمیان یومیہ 4 خواتین کی عصمت دری ہوئی 

دہلی میں 2012-15کے درمیان یومیہ 4 خواتین کی عصمت دری ہوئی 

Mon, 08 Aug 2016 11:45:36    S.O. News Service

نئی دہلی، 7 ؍اگست(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )دہلی پولیس نے خواتین کے خلاف ہونے والے جرائم کے اعداد و شمار کو جمع کیا ہے جس میں خلاصہ ہوا ہے کہ قومی دارالحکومت میں 2012سے 2015کے درمیان اوسطا یومیہ نو خواتین کا پردہ بکار ت زائل ہوا ہے جبکہ کم از کم 4 خواتین عصمت دری کا شکار ہوئی ہیں ۔چار سال کی اس مدت میں عصمت دری کے واقعات میں تین گنا اضافہ ہوا ہے ۔2012میں عصمت دری کے کل 706معاملات درج ہوئے تھے جس میں 2015میں تین گنا سے زیادہ کا اضافہ ہو کر 2199ہو گئے۔2013میں عصمت دری کے 1636معاملات اور اس کے اگلے سال 2166معاملے درج کئے گئے۔اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ پندرہ سالوں میں عصمت دری کے معاملوں میں 6 گنا اضافہ درج کیا گیا ہے ۔2001میں 381معاملات درج کئے گئے تھے اور 2015میں ایسے 2199معاملات درج کئے گئے۔ 2012میں پردہ بکارت زائل کرنے کی نیت سے خواتین پر کئے گئے حملے کے 727معاملات درج کئے گئے تھے جو 2013میں بڑھ کر 3515، 2014میں 4322اور اس کے اگلے سال بڑھ کر 5367ہو گئے۔2015میں جنوری سے وسط جولائی تک عصمت دری کے 1120معاملات درج کئے گئے تھے جو وسط جولائی 2016تک بڑھ کر 1186ہو گئے۔اعدادوشمار سے پتہ چلتا ہے کہ خواتین اپنے گھر میں بھی محفوظ نہیں ہیں اور جہیز سے متعلق معاملات اور شوہر اور سسرال والوں کی طرف سے مظالم کرنے سے متعلق معاملات میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔2012سے جولائی کے وسط 2016تک جہیز قتل کے 681معاملات درج کئے گئے ہیں۔ان چار سالوں میں شوہر اور ساس سسر کے خلاف کل 13984مقدمات درج کئے گئے، ایسے جرائم میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا۔2012میں ایسے کل 2046معاملات درج کئے گئے ، اس کے اگلے سال یہ اعداد و شمار 3045اور 2014میں بڑھ کر 3194ہو گئے ۔2015میں مجموعی طور پر ایسے 3536معاملات درج ہوئے۔جنوری سے لے کر جولائی کے وسط 015تک 1842معاملے درج ہوئے جبکہ اس سال اسی مدت میں یہ اعداد و شمار 2163رہے ۔چار سالوں میں جہیز سے متعلق 681موت میں سے 134سال 2012میں اور 144اس کے اگلے سال ہوئیں۔2014میںیہ تعداد 153تھی جو 2015میں کم ہو کر 122رہ گئی ۔


Share: